5 نومبر 2012 - 20:30

فلسطینی سرزمین میں صیہونی حکومت کی تسلط پسندی اور فلسطینیوں کے خلاف اس قابض حکومت کی بڑھتی دھمکیوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔

ابنا:یہ ایسی حالت میں ہے کہ جب اپنے قبضے سے رائے عامہ کی توجہ ہٹانے کے لۓ اس حکومت کی مضحکہ خیز دھوکہ دہی میں شدت آئي ہے۔ اس سلسلے میں صیہونی وزیر تعلیم گيدعون ساعر نے وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مغربی کنارے پر قبضے کا حکم جاری کردیں۔
 
ساعر نے اسرائیل کے ٹی وی چینل نمبر سات سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہےکہ فلسطینی  انتظامیہ کے سربراہ محمود عباس اقوام متحدہ میں فلسطین کی رکنیت کی سطح بلند کرنے کے سلسلے میں اقوام متحدہ سے رجوع کرنے کے لۓ کوشاں ہیں اور اسرائيل کو چاہۓ کہ وہ ان کو اس کام سے روکنے کے لۓ مغربی کنارے پر قبضے سمیت اقدامات انجام دے۔
 
بعض صیہونی حکام ایسی حالت میں مغربی کنارے پر قبضے کی تاکید کر رہے ہیں کہ جب انیس سو سڑسٹھ سے اس علاقے پر صیہونی حکومت کا قبضہ برقرار ہے۔
 
صیہونی حکومت  پر فریب بیانات ، مشرق وسطی ساز باز مذاکرات اور نام نہاد فلسطینی انتظامیہ کی تشکیل جیسے مختلف حربوں  سے فلسطین کے مختلف علاقوں پر اپنے قبضے پر پردہ ڈالنے کے ساتھ ساتھ فلسطین میں اپنی تسلط پسندانہ پالیسیوں کو عملی جامہ پہنانے کا راستہ ہموار کرنے کے درپے ہے۔
 
صیہونی حکومت نام نہاد خود مختار فلسطینی انتظامیہ کی تشکیل کے ذریعے ، کہ جس کوایک خود مختار انتظامیہ کے معمولی سے اختیارات بھی حاصل نہیں ہیں ،  یہ ظاہر کرنےکی کوشش کرتی رہی ہے کہ فلسطینی انتظامیہ کے زیر انتظام علاقے پر اس کا قبضہ نہیں ہے۔ صیہونی حکام نے مختلف فلسطینی علاقوں پر اپنے قبضے سے متعلق حقائق میں تحریف کرنے کے ساتھ  ساتھ حالیہ ہفتوں کے دوران اپنے بیانات کے ذریعے یہ ظاہر کرنے کی بھی کوشش کی ہے کہ فلسطینی سرزمین پر صیہونی حکومت کا قبضہ نہیں ہے۔
 
اس سلسلے میں صیہونی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نےکہا ہے کہ مغربی کنارہ مقبوضہ نہیں ہے۔
 
صیہونی حکومت حقائق میں تحریف کرنے کے ذریعے ہمیشہ دنیا والوں کی توجہ فلسطینی سرزمین پر اپنے قبضے پر مبنی حقیقت سے ہٹانے کی کوشش کرتی رہی ہے۔
 
صیہونی حکام کے مواقف سے اس بات کی نشاندہی ہوتی ہے کہ یہ حکومت فلسطینی سرزمین پر اپنے قبضے میں توسیع لانے کے ساتھ ساتھ اپنے قبضے کے سلسلے میں پائي جانے والی عالمی حساسیت کو ختم اور کسی حد تک عالمی سطح پر اپنی تنہائی میں کمی لانا چاہتی ہے۔
 
لیکن صیہونی حکام کی جانب سے قبضے اور توسیع پسندی کے تسلسل اور بار بار جھوٹ بولنے کے باعث عالمی رائے عامہ ماضی کی نسبت اب زیادہ اس حقیقت سے آگاہ ہوچکی ہے کہ دنیا والوں کو ایک قابض ، تسلط پسند اور دھوے باز حکومت کا سامنا ہے۔ 
.....
/169